نئی دہلی،4/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس ا نڈیا) 31 جنوری سے شروع ہوئے بجٹ سیشن میں حکمراں اور اپوزیشن کی جانب سے جم کر ایک دوسرے پر بیان بازی ہو رہی ہے۔کرناٹک سے بی جے پی رہنما اننت ہیگڑے کی طرف سے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کو ڈراما کہنے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پی پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔منگل کو لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے گاندھی کو گالی دینے والوں کو ’راون کی اولاد‘ بتایا۔ادھیر رجن چودھری نے کہاکہ آج یہ مہاتما گاندھی کو گالی دیتے ہیں، یہ راون کی اولاد ہیں۔ رام کے پجاری کی یہ توہین کر رہے ہیں۔غور طلب ہے کہ اس معاملے پر بی جے پی مکمل طور پر بیک فٹ پر ہے اور اعلی کمان نے اننت ہیگڑے سے فوری طور پر معافی مانگنے کو کہا تھا۔بتا دیں کہ کرناٹک سے بی جے پی رہنما اننت ہیگڑے نے ایک پروگرام میں مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کو ڈراما کہہ ڈالا تھا۔رہنما اننت ہیگڑے نے پورے تحریک آزادی کو انگریزوں کی رضامندی اور حمایت کے ساتھ اسٹیج کیا گیا۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ان میں سے کسی بھی نام نہاد لیڈر کو پولیس نے نہیں مارا پیٹا۔ان کی تحریک آزادی ایک بڑا ڈرامہ تھا۔یہ حقیقی جنگ نہیں تھی۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کی بھوک ہڑتال اور ستیہ گرہ کو بھی ڈراما قرار دیا۔ساتھ ہی ہیگڑ ے نے کہا تھاکہ آپ کو پتہ ہے کہ ہمارا آدمی 80 گھنٹے کے لئے مہاراشٹر میں وزیر اعلی بنا تھا۔ اس کے بعد فڑنویس نے استعفی دے دیا۔انہوں نے یہ ڈراما کیوں کیا تھا؟ کیا ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے پھر بھی وہ وزیر اعلی بنے۔یہ سوال ہر کوئی پوچھتا ہے۔وزیر اعلی کے پاس تقریبا 40 ہزار کروڑ روپے تھے۔اگر کانگریس۔این سی پی اور شیوسینا اقتدار میں آ جاتے تو وہ ان پیسوں کا غلط استعمال کرتے۔یہ سب مرکز کا پیسہ تھا اور اس کا استعمال ریاست کی ترقی میں نہیں ہوتا۔یہ سب کچھ بہت پہلے طے کر لیا گیا تھا۔اس لیے یہ ڈراما رچا گیا۔